28 اگست 2011 - 19:30

وزارت صحت کے کے کارکنوں کی بحالی کے بارے میں آل خلیفہ حکومت کے جھوٹے بیانات کے باوجود بےدخل ہونے والا کوئی بھی ملازم عملی طور پر بحال نہیں ہوا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے روزنامہ الوسط نے لکھا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت کی طرف سے وزارت صحت کے بیدخل کئے جانے والے ملازمین کی بحالی کے اعلان کے باوجود اب تک کوئی بھی اپنے کام پر نہیں لوٹ سکا ہے۔ الوسط نے ادارہ صحت کے ذرا‏ئع کے حوالے سے لکھا کہ آل خلیفہ کی قائم مقام وزیر صحت کی طرف سے دکھی انسانیت کی خدمت کی پاداش میں بیدخل یا معطل کئے جانے والے 200 ملازمین کی بحالی کے احکامات جاری ہونے کے باوجود ان افراد میں سے کوئی بھی عملی طور پر بحال نہیں ہوا اور کوئی بھی اپنے کام پر نہیں لوٹ سکا ہے۔آل خلیفہ کی قائم مقام وزیر صحت "فاطمہ البلوشی" نے 11 اگست 2011 کو اس ادارے کے معطل یا بیدخل کئے جانے والے 200 افراد کی بحالی کے احکامات جاری کئے تھے۔ ان افراد کا کیس تحقیق و سزا کے لئے تشکیل پانے والی خلیفی کمیٹی کے پاس بھجوادیا گیا تھا۔الوسط نے لکھا ہے قائم مقام وزیر صحت کے ہدایت سے اب تک تقریباً بیس روز گذر چکے ہیں لیکن چار مہینوں سے بے روزگار ہونے والے افراد اپنے اداروں میں حاضر نہیں ہوسکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آل خلیفہ کے سفاک وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان سے وابستہ انتہا پسند عناصر ملک میں کسی بھی عوام پسند اقدام کے خلاف ہیں اور حکومت کے کسی بھی حکم پر عملدرآمد نہیں کرنے دے رہے ہیں۔بحرین میں ذرائع کا کہنا ہے کہ آل خلیفہ خاندان کے درمیان بہت سے موضوعات پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور بعض عوام کے مطالبات کی منظوری کے حق میں ہیں اور بعض دیگر کہتے ہيں کہ عوام کا کوئی مطالبہ منظور نہیں ہونا چاہئے۔ بیدخل ہونے والے بحرینی ملازمین کے بحالی یا باقیماندہ ملازمین کی بیدخلی بھی ان ہی اختلافی موضوعات میں سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110